نیپال کی اختراع: ہسپتال کے فضلہ سے گھریلو گیس کی تیاری

نیپال کی اختراع: ہسپتال کے فضلہ  سے گھریلو گیس کی تیاری

نیپال کے ہسپتالوں نے فضلہ سے گھریلو گیس بنا کر آلودگی میں کمی کا سلسلہ شروع کر دیا

آج تک سنا ہی تھا کہ آم کے آم، گٹھلیوں کے دام۔ نیپال نے کر بھی دکھایا۔طبی فضلے کو جلانا صحت اور ماحولیات کو سنگین خطرات سے دوچار کردیتا ہے۔ نیپال کے ہسپتالوں نے اس مضر فضلے کو گھریلو استعمال کی  گیس میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

 فضلہ جلانے والی بھٹی کے قریب ڈیوٹی کرنے والے ہسپتال کے عملے کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سر درد، آنکھوں میں خراش اور خارش کی شکایت تھی۔ اس کی چمنی سے نکلنے والا سیاہ، زہریلا دھواں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں واقع تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ ہسپتال (TUTH) کی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا تھا۔ مجبوراً عملے نے اپنےلاغر مریضوں،  سانس کی بیماریوں میں مبتلا بالغ افراد،  بچوں کے وارڈ میں اور انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود  نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے لیے کھڑکیوں کو  بند کر دیا۔

 دیپک مہارا، TUTH کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، بیان کرتے ہیں "کھڑکیاں بند رکھنے سے کمرے زیادہ گرم ہو گئے اور تکلیف میں اضافہ ہوا،" ۔ "جب بھٹی کام کر رہی تھی، دھواں کثرت سے ان حساس علاقوں میں جاتا تھا، جس سے کافی پریشانی ہوتی تھی۔ بدبو نے کام کے ماحول کو تکلیف دہ بنا دیا تھا۔"

اس سب  کے باوجود، کسی کو احساس نہیں ہوا کہ ان کی تکالیف کا  بھٹی سے نکلنے والی زہریلی گیس اور دھویں سے گہرا تعلق ہے، جب تک کہ 2014 میں ایک مقامی غیر منافع بخش، ہیلتھ انوائرنمنٹ اینڈ کلائمیٹ ایکشن فاؤنڈیشن (HECAF360) نے خطرناک بھٹی کو ایک زیر زمین بائیو ڈائجسٹر کے ساتھ تبدیل کرنےتجویز دینے  کے لیے ہسپتال کے مینیجرز سے رابطہ نہیں کیا۔ HECAF360 نے خبردار کیا کہ زہر آلود ہوا میں سانس لیتے رہنے سے  عملے کو نہ صرف طویل مدتی صحت کے مسائل  کا سامنا رہے گا بلکہ ہسپتال صحت عامہ اور ماحولیاتی خطرات کا بھی سبب بنا رہے گا۔ طبی فضلے کو کم معیاری بھٹی میں جلانے سے فضاء  میں ڈائی آکسینز (Dioxins) اور فیورانز (Furans) شامل ہو جاتے ہیں- دونوں ہی کیمیکل انسانوں میں سرطان پیدا کرنے والی فہرست میں شامل ہیں۔ جبکہ طبی فضلہ جو ہسپتال کے میدانوں سے باہر پھینکا جاتا ہے اس سے ہر اس شخص کو خطرات لاحق ہیں جس کا اس سے واسطہ پڑتا ہے،  جیسے کہ ڈمپ سائٹس پر کچرا چننے والے۔

TUTH میں بھی عمومی صورتحال ہے۔ دنیا بھر کے ہسپتال کچرے کی تلفی کے لیے بھٹیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ طریقہ ترقی پذیر ممالک میں متعدی فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں اس نکتے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اگر طبی سہولیات میں کم درجے والی بھٹیاں  موجود ہوں یا ان کا انتظام غلط طریقے سے چلایا جاتا ہو، تو اس سے ڈائی آکسینز کا اخراج ہو سکتا ہے جو کہ 'اسٹاک ہوم کنونشن برائے مستقل نامیاتی آلودگی' کی طے شدہ اخراج کی حد سے 40,000 گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ 

 ماحول اور لوگوں پر صحت کی خدمات کے  منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی غیر منافع بخش تنظیم 'ہیلتھ کیئر ود آؤٹ ہارم (HCWH)' کے مطابق نیپال میں ہسپتال اور مراکز صحت روزانہ 1 سے 1.7 کلوگرام (2.2 سے Lb3.7) تک طبی  فضلہ فی بستر پیدا کرتے ہیں۔ ایک مطالعہ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک روزانہ 6 کلوگرام (13.3Lb) فی بستر تک خطرناک فضلہ پیدا کرتے ہیں جب کہ امیر ممالک میں یہ شرح 11کلوگرام  (24.3Lb)تک جاپہنچتی ہے۔


 طبی فضلے کی تلفی کا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ کچرے کو الگ الگ اور مختلف طریقوں سے تلف کیا جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 15 فیصد تک طبی فضلہ خطرناک مواد  پر مشتمل ہوتا ہے جو متعدی، زہریلا یا تابکار ہو سکتا ہے۔ فضلے کو ٹھکانے لگانے سے پہلے الگ  الگ کر دینا چاہیے، لیکن صرف ایک تہائی  مراکز صحت ایسا کرتے ہیں۔ اس سے انسانوں اور زمین پر مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 5.2 ملین افراد جن میں 40 لاکھ بچے بھی شامل ہیں کچرے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پیتھولوجیکل فضلہ، جیسے انسانی ٹشو، اعضاء یا کٹے ہوئے جسم کے اعضاء بھی خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ان میں پیتھوجنز، بیماری پیدا کرنے والے وائرس اور بیکٹیریا موجود ہوسکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر خطرناک پیتھولوجیکل فضلے کو بغیر جلائے  تلف کرنے کے لیے کئی ٹیکنالوجی دستیاب ہیں جیسے کہ آٹوکلیونگ اور مائیکرو ویو ٹریٹمنٹ۔ لیکن پروجیکٹ پر  HCWH کی بین الاقوامی سائنس اور پالیسی کوآرڈینیٹر روتھ سٹرنگر کی 2019 میں تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق '2014 میں، جب TUTH میں پروجیکٹ شروع ہوا، زیادہ تر نیپالی ہسپتال طبی  فضلے کو سائٹ پر دفن کر کے، کھلے میں جلا کر  فضائی آلودگی پر بہت کم کنٹرول یا بنا کنٹرول   کےتلف کر رہے تھے'۔


 

نیپال میں HECAF360 کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور بانی مہیش نکرمی نیپال کے ہیلتھ کیئر ویسٹ مینجمنٹ کو صاف ستھرا بنانے کی مہم پر ہیں۔ 2014 میں جب مستند سول انجینئر نیپال کے سب سے بڑے، 700 بستروں والے تریبھون اسپتال میں پہنچا  تو وہ پہلے ہی بھٹی کو تبدیل کرنے کے حل کو آزما اور جانچ چکا تھا۔ نکرمی کہتے ہیں "ہر کوئی سمجھتا  ہے کہ فضلے کو جلانا ہی حل ہے، لیکن یہ بہت سے ماحولیاتی مسائل  کا سبب بنتا ہے۔ جب میں نے یہ کام شروع کیا تو میں مختلف قسم کے کچرے کے لیے مختلف حل تلاش کرنا چاہتا تھا۔" 

دوسرے ہسپتالوں کی طرح نکرمی نے TUTH میں بھی کچرے کی تلفی کے عمل کے مکمل جائزے کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔ 2017 تک، ہسپتال HECAF360 کے ساتھ تمام سروسز میں تبدیلیوں کا ایک معاہدہ کرچکا تھا۔ ان میں کچرے کو الگ کرنے کے نئے طریقے شامل تھے، جس میں آٹوکلیو کی تنصب شامل تھی تا کہ ری سائیکل یا تلف کرنے سے پہلے تمام متعدی فضلہ (ماسوائے پیتھولوجیکل) کو بلند درجہ حرارت پر جراثیم سے پاک کیا جاسکے اور خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے، بھٹی کے متبادل، بائیو ڈائجسٹر کی تعمیر بھی شامل تھی۔

ایک بڑی وجہ جس سے بھٹی بہت ساری پریشانیوں کا سبب بن رہی تھی  وہ اسے چلانے والے فضلہ ہینڈلرز کی ایک قسم تھی۔ وہ روزانہ ہسپتال کے میٹرنٹی وارڈ سے آنول کی ایک بالٹی لے کر آگ میں پھینک دیتے تھے۔ حمل کے دوران خواتین کے جسموں میں بننے والے یہ عارضی اعضاء پیتھولوجیکل فضلہ کی ایک مخصوص قسم ہیں۔ آنول کو جلانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر پانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ٹشو کو توڑنے کے لیے ایک بھٹی کو بلند درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ ہسپتال نامیاتی مادے کو کم کرنے کے لیے 850 سے 1100 ڈگری سینٹی گریڈ (1562سے 2012 ڈگری فارن ہائیٹ) تک درجہ حرارت کے حصول کے لیے دو چیمبروں والی بھٹیاں استعمال کریں۔ لیکن تریبھون میں ڈیزل ایندھن سے چلنے والی  سنگل چیمبر یونٹ والی بھٹی تھی، جس میں آلودگی کی روک تھام کا کوئی نظام نہیں تھا۔ 

ہسپتال کا عملہ آگ کو بھڑکانے کے لیے کاغذ اور پلاسٹک جیسے قابل تجدید مواد استعمال کرتا تھا جو کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) خارج کرتا ہے۔ جب انہوں نے PVC سے بنے آلات، جیسے کہ خون کی تھیلیاں، نس کی نلکیاں اور آکسیجن ماسک شامل کیے تو انھوں نے ماحول میں انتہائی زہریلے ڈائی آکسینز چھوڑے۔ ڈائی آکسینز فوڈ چین میں شامل ہو جاتے ہیں اور مدافعتی نظام، تولیدی نظام اور نشوونما کے مسائل یہاں تک کہ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

بھٹی کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ، نکرمی نے ہسپتال کی خوراک کے فضلے کو میونسپل لینڈ فل میں بھیجنے کی پالیسی کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ اس وقت، مریضوں کے بچے ہوئے کھانے اور کچن کے کچرے کی روزانہ مقدار 189 کلوگرام (417 پونڈ) تھی۔ لینڈ فلز میں قدرتاً سڑنے والا (بائیو ڈیگریڈیبل) فضلہ پھینکنا نہ صرف کاکروچ اور چوہوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے بلکہ میتھین بھی خارج کرتا ہے۔ میتھین 20 سال کے دورانیے میں CO2 کے مقابلے میں تقریباً 80 گنا زیادہ طاقتور گرین ہاؤس گیس بن چکی ہے، اور یہ زمینی سطح پر اوزون کا بنیادی حصہ ہے، جو ہر سال 10 لاکھ قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے۔

 بائیو ڈائجسٹر خوراک کے فضلے کو تلف کرنے کے ایک طریقے کے طور پر متعارف ہوا۔ 2011 میں HECAF360 نے بیر ہسپتال، کھٹمنڈو میں ، زیر زمین ایک سنگل چیمبر بائیو ڈائجسٹر بنایا۔ ایک ملک گیر سروے کے مطابق، نیپال میں بایو گیس کا کلچر 40 سال سے زیادہ عرصے سے موجود ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی توانائی کی کل طلب کا 69 فیصد بائیوماس انرجی سے پورا ہوتا ہے۔ نیپالی لوگ گھروں اور کھیتوں میں موجود اپنے جانوروں کے فضلے کو اپنی زمین پر چھوٹے بائیو ڈائجسٹروں میں ڈالتے ہیں، جس سے کھانا پکانے کے لیے میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔ 


بیر ہسپتال میں کھانے کے فضلے کے گلنے سڑنے سے پیدا ہونے والی میتھین کو، ایک پنتھ دو کاج کے عین مطابق، عملے کے چائے خانہ میں جلایا جاتا تھا۔ لیکن نکرمی کو کھٹمنڈو میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال میں ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انہوں نے 2016 میں ایک بائیو ڈائجسٹر نصب کیا۔ "بیر کے بعد، ہم نے جن ہسپتالوں کے ساتھ کام کیا وہاں زچگی کی خدمات تھیں جو آنول کے ساتھ ساتھ کھانے کا فضلہ بھی پیدا کرتی ہیں،" وہ کہتے ہیں۔ "ہم نے بائیو ڈائجسٹر میں ترمیم کی تاکہ اسے دونوں قسم کے کچرے کے لیے موزوں بنایا جا سکے۔"

 نکرمی نے سٹرنگر اور ایک ولندیزی انجینئر مارجن زندی، جو کہ بایو ٹیکنالوجی کے ایک آزاد تکنیکی مشیر ہیں، کے ہمراہ خوراک اور پیتھولوجیکل فضلہ دونوں کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے ایک نیا ماڈل تیار کیا۔ اس نے اتنا اچھا کام کیا کہ ٹیم نے مزید تین بائیو ڈائجسٹر، گرانڈے سٹی ہسپتال، پاروپاکر میٹرنٹی اینڈ ویمنز ہسپتال اور سب سے بڑے TUTH میں نصب کیے۔

 سٹرنگر بتاتے ہیں کہ 50 مکعب میٹر پیمائش والا کنکریٹ کا TUTH ماڈل کیسے کام کرتا ہے۔ پیتھولوجیکل فضلہ کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے بنیادی مطابقت پیدا کرنے کے لئے مزید ایک اور چیمبر شامل کرنا تھا۔

 اس سے پہلے کہ ہسپتال کا عملہ فضلہ ڈالنا شروع کرے، تعمیر کنندگان چیمبروں میں 'ابتدا' کرنے کے لیے گائے کا گوبر ڈالتے ہیں کیونکہ اس میں بیکٹیریا ہوتے ہیں جو فضلے کو گلانے اور میتھین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ہسپتال کے کارکن پیتھولوجیکل اور کچھ کھانے کا فضلہ زمین کے اوپر بنے ایک داخلی راستے کے ذریعے پہلے زیر زمین چیمبر میں ڈالتے ہیں۔ ہسپتال کے کھانے کے فضلے کی اکثریت دوسرے داخلی راستے اور چیمبر میں ڈالی جاتی ہے۔ سٹرنگر کہتے ہیں، "ہم آنول اور کچھ خوراک ڈالتے ہیں تاکہ اس کاربن اور نائٹروجن کو پہلے چیمبر میں متوازن کر سکیں۔" "کھانا جو مقدار میں بہت زیادہ تو ہے لیکن اس سے انفیکشن کا کوئی خطرہ نہیں اسی لئے اسے طویل عرصہ چیمبر میں رہنے کی ضرورت نہیں، اسے دوسرے چیمبر میں ڈالا جاتا ہے۔"


ٹیم نے ہسپتال کے عملے کو کچرے کو الگ کرنے اور ڈائجسٹر میں صرف مناسب نامیاتی مواد ہی ڈالنے کو یقینی بنانے کی تربیت بھی دی۔ عملہ بھی آمیزے کو رواں رکھنے کے لیے داخلی راستوں میں باقاعدگی سے پانی ڈالتا ہے۔ کشش ثقل اسے آہستہ آہستہ نظام کے اندر منتقل کرتی ہے۔ گلا سڑا فضلہ دوسرے چیمبر سے گٹر میں گرتا ہے جہاں سے یہ محفوظ طریقے سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس وقت تک تمام پیتھوجینز مر چکے ہوتے ہیں۔ سٹرنگر کا کہنا ہے کہ "اکثر وائرس زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ جسم سے باہر رہ سکتے ہیں لہٰذا کوئی خطرہ نہیں ہے۔"

 زندی بتاتے ہیں کہ دو چیمبرز ضروری تھے، کیونکہ خوراک اور آنول، گائے کے گوبر کے مقابلے میں "خام مال" ہیں، جو پہلے ہی جزوی طور پر ہضم ہو چکا ہوتا ہے۔ "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ فضلہ زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لئے فضلے کو عام بائیوگیس پلانٹ کی نسبت زیادہ عرصے کےلئے پلانٹ میں رکھا جاتا ہے۔ یہ عرصہ 70 کے مقابلے میں 150 سے 180 دن تک ہوتا ہے۔"

 زندی کا کہنا ہے کہ بائیو ڈائجسٹر اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ ہسپتال کے تمام فضلہ کے لئے کافی ہو سکے، جبکہ اسے دستیاب جگہ کی شکل اور حجم کے مطابق تعمیر کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی وقت تریبھون پوری گنجائش  کے مطابق کام کر رہا ہو، تو یہ روزانہ 217 کلوگرام (478Lb) خوراک کا فضلہ اور 11.5 کلو گرام (25Lb) پیتھولوجیکل فضلہ پیدا کرسکتا ہے جو کہ83 ٹن (182,984Lb) سالانہ بنتا ہے۔

 TUTH میں بائیو ڈائجسٹر کے ذریعہ تیار کردہ میتھین گیس کو چیمبر سے باہر اسٹاف روم میں پہنچایا جاتا ہے۔ یہ کھانا پکانے والے چولہے کو ایندھن دیتا ہے، اور یہ میتھین اس مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی متبادل بنی ہے جسے ہسپتال خریدتا تھا۔ تریبھون میں بائیو ڈائجسٹر روزانہ 1.5 کیوبک میٹر میتھین گیس پیدا کرتا ہے، جو پانچ عمومی سائز کے ایل پی جی گیس سلنڈروں کے برابر ہے۔ نکرمی کے مطابق ایک سلنڈر پانچ افراد کے خاندان کے لیے ایک مہینے کے لیے دن میں دو وقت کا کھانا پکانے کے لیے کافی ہے جس کی قیمت تقریباً £15 ($20) بنتی ہے۔

 مہارا کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی پوری افرادی قوت کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر رضامند کرنا ایک "بڑا چیلنج" تھا۔ 2019 کے ایک جائزے کے مطابق بائیو ڈائجسٹر کی نامیاتی فضلہ پروسیس کرنے کی کل  گنجائش جو کہ ٹیم نے بتائی تھی اس کا صرف 36 فیصد حصہ اس میں ڈالا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تمام وارڈز کو سسٹم میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور کچن کا کچھ عملہ اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے کھانے کا فضلہ جانوروں کی خوراک بنانے والوں کو فروخت کرنا چاہتا تھا۔

 صف اول کے ویسٹ ہینڈلرز بھی غیر سرکاری طور پر ری سائیکلنگ کے قابل مواد، جیسے کہ سرنج، دستانے اور ٹیوب وغیرہ ری سائیکلنگ فروشوں کے ہاتھوں فروخت کر رہے تھے۔ "ان کا اس آمدنی پر انحصار تھا،" مہارا کہتے ہیں "وہ اس سے پیدا ہونے والے پیشہ ورانہ خطرات سے بے خبر تھے۔" HECAF360 نے ہسپتالوں کو طبی فضلہ کی کچھ شکلوں کو ری سائیکل کرنا سکھایا کہ پہلے انہیں سر بند جوشارے (آٹوکلیو) میں بلند درجہ حرارت پر گرم کرکے جراثیم سے پاک کریں۔

لیکن، عمومی طور پر، سروے میں عملے نے ان تبدیلیوں کو معاشرے کے لیے اطمینان اور وسیع تر فوائد کا باعث قرار دیا۔ جائزے میں ہسپتال کے کچرے کے انتظامی کوآرڈینیٹر دھرما لکشمی شریستھا نے کہا کہ پوری سروس کے ماحول اور صفائی میں بہتری آئی ہے اور مریض اور عملہ گھر میں بھی حفظان صحت کے طریقوں پر بہتر عمل کرنے لگے ہیں۔


ایک محتاط اندازے کے مطابق بھٹی کو تبدیل کرنے سے 2019 میں 4.6 ٹن CO2 کے اخراج میں کمی کے واقع ہوئی اور آم کے آم، گٹھلیوں کے دام کے مصداق، ڈیزل اور میتھین گیس کا اخراج بھی ختم ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

دنیا کی مالک کمپنی

انسان کی سونگھنے کی حس کتنی تیز ہے