انسان کی سونگھنے کی حس کتنی تیز ہے
آپ کی ناک آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔
انسانی قوت شامہ ایک ہی بار سونگھ کر سیکنڈ کے ایک حصے میں مختلف بوؤں میں امتیاز کر سکتی ہے۔ یہ دماغ کی رنگوں کو
سمجھنے کی حساسیت کے برابر رفتار سے کام کرتی ہے۔ ایک نئی تحقیق نے وسیع پیمانے پر
پائے جانے والے اس نظریے کی تردید کی ہے کہ انسانی قوت شامہ سست ہے۔
نیچر ہیومن
بی ہیوئیر نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انسان مہک کی مختلف
تراتیب کے درمیان بھی فرق کر سکتا ہے۔ "B" سے پہلے "A" کی ترتیب کو اور"A" سے پہلے "B" کی ترتیب کو پہچان سکتا ہے جب کہ دونوں بوؤں کے درمیان وقفہ محض 60
ملی سیکنڈ کا تھا۔
"ہم
یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شرکاء صرف 60 ملی سیکنڈ وقفہ سے ایک ترتیب میں پیش کی
گئی دو بوؤں کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔" بیجنگ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے
اعلیٰ محقق اور تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر وین چاؤ نے ایک ای میل میں کہا۔ وقفے سے
خوشبو کی ترسیل کے لئے درکار وقت مراد ہے۔
"اندازہ
لگانے کے لئے بتا دوں کہ آنکھ جھپکنے کا دورانیہ تقریباً 180 ملی سیکنڈ ہے،"
چاؤ نے مزید کہا۔
"ہمارے آلات معالجاتی مقاصد کے لئے استعمال کیے جا سکتے ہیں،
مثلاً قوت شامہ سے محروم مریضوں کی سونگھنے کی تربیت کے لئے"۔ چاؤ نے کہا
"زیادہ وضاحت سے بات کریں تو ہمارے نتائج سے الیکٹرانک ناکوں اور شمومی
ورچوئل رئیلٹی سسٹمز کے ڈیزائن اور ترقی میں رہنمائی لی جا سکتی ہے، جس کے اہم طبی
فوائد ہو سکتے ہیں۔"
یونیورسٹی
آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک سونگھنے
سے چلنے والا اپریٹس تیار کیا جس میں مہک کو ایک سمت میں بہانے والے چیک والوز اور
ٹیفلون کی بنی نلکیاں جو 18 ملی سیکنڈ کی درستگی کے ساتھ انسانی ناک تک مہک
پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، شامل تھیں۔ محققین نے چین میں 229 بالغوں سے اس
ڈیوائس کو پہننے اور مختلف بوؤں کے مرکب کو سونگھنے کو کہا: جس میں دو بو یکے بعد
دیگرے ایک ہی سونگھ میں پیش کی جاتی ہیں۔
ان میں سیب
جیسی خوشبو، پھولوں کی میٹھی خوشبو، لیموں جیسی خوشبو اور پیاز جیسی خوشبو شامل
تھی۔ دونوں خوشبوؤں کے درمیان وقفے کو احتیاط سے جانچا گیا تھا۔
محققین نے
تجزیہ کیا کہ آیا شرکاء دو بوؤں کو سیدھی اور پھر الٹی ترتیب میں مختلف وقفوں سے
پیش کیے جانے پر بھی پہچان سکتے ہیں یا نہیں۔
چاؤ نے کہا کہ، مجموعی طور پر، دو بو سیدھی اور الٹی ترتیب میں صرف 60 ملی سیکنڈ کے وقفے سے ایک ہی سونگھ میں پیش کی گئیں پھر بھی ان میں ادراکیت کے ساتھ امتیاز کر لیا گیا۔
محققین نے نوٹ کیا کہ انہوں نے صرف چار بوؤں کا استعمال کیا ہے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا انسان کی سونگھنے کی حس مخصوص بو کی حرکیات یا مرکبات کے لیے زیادہ حساس ہے، وسیع پیمانے پر تحقیقات کرنا مفید ہوگا۔
چاؤ نے کہا کہ "جن ریاضیاتی اصولوں پر ہماری قوت شامہ کام کرتی ہےاس کازیادہ بہتر شعور اس طرح کی تحقیقات سے حاصل ہو سکتا ہے۔"
نیویارک
میں NYU لینگون
ہیلتھ کے شعبہ نیورو سائنس اور فزیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر دمتری رنبرگ نے نیچر
ہیومن بی ہیوئر (Nature Human Behaviour) نامی اسٹڈی کے ساتھ ایک اداریہ میں لکھا کہ نئی دریافتیں پچھلی تحقیق کو چیلنج
کرتی ہیں جس میں بو کے سلسلوں کے درمیان امتیاز کرنے کے لیے لگنے والا وقت تقریباً
1,200 ملی سیکنڈ تھا۔
موسیقی میں
ایک راگ کے معنی اور خوبصورتی کو پہنچانے کے لیے انفرادی سروں کا آہنگ بہت اہم ہوتا
ہے، اور انسانی کان اس معاملے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ تاہم، فص صدغی (دماغ کے
دونوں طرف کنپٹی کے اندر کا حصّہ) کی حساسیت صرف سماعت تک ہی محدود نہیں ہے: ہماری
وقت شامہ بو کی پیشکش سے فص صدغی میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کو بھی محسوس کر
سکتی ہے،‘‘ اس نے لکھا۔ "جس طرح آہنگ ایک راگ میں سروں کے تاثرات کو متاثر
کرتا ہے اسی طرح بو کے ایک پیچیدہ مرکب میں انفرادی اجزاء کا آہنگ جو ناک تک
پہنچتا ہے، شمومی دنیا کے بارے میں ہمارے ادراک کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔"
ہارورڈ
میڈیکل اسکول کے شعبہ نیورو بائیولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سندیپ رابرٹ دتا جو کہ نئی
تحقیق میں شامل نہیں تھے کہتے ہیں کہ ایک سونگھ کے اندر بو کو شناخت کرنے کی
صلاحیت وہ اہم ذریعہ ہو سکتا ہے جس سے جانور یہ پتہ لگاتے ہیں کہ بو کیسی ہے اور
یہ کہاں موجود ہے۔
انسان کا ایک سونگھ کے دوران بو کو الگ الگ شناخت کرنا اس بات کا واضح مظہر ہے کہ تمام انواع میں سونگھنے کے لیے آہنگ نہایت اہم ہے، اور یہی قوت شامہ کے اساسی افعال کا عمومی اصول ہے۔ اس کے علاوہ، یہ تحقیق بو کے انسانی ادراک کے 'مددگار پراسرار میکانزم' پر اہم روشنی ڈالتی ہے،" دتا نے ایک ای میل میں لکھا۔
انہوں نے کہا "تاریخ شاہدہے کہ انسانی قوت شامہ پر تحقیق کام بصارت اور سماعت کے مقابلے میں بہت کم کیا گیا ہے کیونکہ ہم انسان خود کو ایک بصری مخلوق سمجھتے ہیں جو رابطہ کاری کے لئے زیادہ تر قوت گویائی استعمال کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ" نئی تحقیق ہمارے علم کے اس اہم خلاء کو پُر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے کہ انسانی قوت شامہ کیسے کام کرتی ہے"


Comments
Post a Comment