دنیا کی مالک کمپنی

 

کیا آپ یہ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ کرہ ارض پر کوئی کمپنی اتنی طاقتور بھی ہو سکتی ہےکہ وہ ہماری زندگی کو تقریباً ہر پہلو سےمتاثر کرتی ہے؟


ایک ایسی کمپنی جو اتنی امیر ہے کہ دنیا بھر میں صرف دو ملکوں کے علاوہ ہرایک ملک کی جی ڈی پی اس کے اثاثوں سے کم ہے۔

ایک ایسی کمپنی جو جنگلات کی تباہی کی میں صف اول کی سرمایہ کار ہے اور پٹرولیم کی صنعت میں سب سے زیادہ  سرمایہ فراہم کرتی ہے۔

اور یہ سن کر کیسا محسوس کریں گے اگر میں آپ سے کہوں کہ ممکنہ طور پر  آپ  بھی اس کمپنی کی فنڈنگ کے ذمہ دار ہیں اور اسے یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں ؟

اور اپنی بھرپور کوشش کے باوجود انہیں پیسے دینا بند کرنا آپ  کے لئے  تقریباً نا ممکن ہوگا ۔

خوفناک حقیقت یہ ہے کہ یہ کمپنی موجود ہے اور آپ نے غالباً اس کا نام پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا۔



اس کمپنی کا نام ہے بلیک راک ( BlackRock) ۔

اس مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

مضمون  کی دو حصوں میں تقسیم

مسئلہ اور حل۔

میں نے اس بلاگ میں جتنے بھی مضامین لکھے ہیں یہ ان میں سب سے اہم مضمون  ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ آپ کو اس بات کی آگہی فراہم کرتا ہے کہ کرہ ارض کی ملکیت دراصل کس کمپنی کے پاس ہے؟  یہ کام  کیسے کرتی ہے؟اور ہماری پوری زندگی میں تقریباً تمام چیزوں کی ڈوریاں ہِلا کون رہا ہے؟

اس مضمون میں جاننے کے لیے بہت کچھ ہے، اس لیے  چلیں شروع کرتے ہیں۔

پہلا حصہ:   مسئلہ

پہلے آپ کو BlackRock اور اس بہت بڑی کمپنی سے وابستہ کچھ بڑے مسائل کے بارے میں بتاتے ہیں۔

سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ  BlackRock  ہماری دنیا کی سب سے بڑی اثاثہ جات کی انتظامی فرم ہے۔

ان کے پاس اسٹاک، کمپنیوں کی ملکیت، جائیداد اور ڈھیروں دیگر چیزیں ہیں، ان کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے، اپنے لئےاور اپنے حصص یافتگان کے لیے ہر قیمت پر منافع کمانا۔

اور وہ تقریباً ہر چیز میں حصے دار  ہیں یعنی ایک حصے کے مالک ہیں یا یوں کہہ لیں کہ شئیر ہولڈر ہیں۔

اور سب کچھ کا مطلب واقعی  سب کچھ ہی ہے۔

چلیں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیسے؟

امریکہ کے سات بڑے بنک ہیں۔ اگر آپ ایک امریکی ہیں تو اور کسی نہ کسی طرح سے آپ ممکنہ طور پر ان بنکوں میں سے کسی نہ کسی سے منسلک ہیں، آپ چاہے قرضہ حاصل کرتے ہیں، سرمایہ کاری کرتے ہیں، اپنے بزنس اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں یا آپ کا پنشن فنڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ان بنکوں کا مالک کون ہے؟

تو بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ان بنکوں کی مالک بلیک راک ہے۔

BlackRock ان ساتوں بنکوں کی سب سے بڑی حصہ دار (شیئر ہولڈر) ہے یا سب سے بڑے حصہ داروں (شیئر ہولڈرز) میں سے ایک ہے۔

لہذا، اگر آپ عام امریکی بنکنگ سسٹم کا حصہ ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کے پاس بلیک راک کے ساتھ ڈیل کرنے یا نہ کرنے کا واقعی کوئی اختیار نہیں ہے اور آپ اپنا کچھ نہ کچھ پیسہ ان کے پاس رکھنے پر مجبور ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس بنکنگ کے معاملے میں کوئی متبادل ہے، تو یہ آپ کا وہم ہی ہو سکتا ہے۔

اور اگر آپ امریکہ میں نہیں رہتے، تو یہ مت سوچیں کہ آپ محفوظ ہیں، کیونکہ امکان یہی ہے کہ آپ بھی BlackRock کی پہنچ میں ہوں۔

مثال کے طور پر، BlackRock آسٹریلیا کے چار بڑے بنکوں میں حصص کی مالک ہے اور یہ ان تمام بنکوں میں واحد سب سے بڑی حصہ دار ہے۔

جرمنی میں، وہ ڈوئچے بنک، کامرز بنک کے ایک حصے کے ساتھ ساتھ جرمنی کے پوسٹل سسٹم کے ایک بڑے حصے کی مالک ہے۔



برطانیہ میں، وہ Lloyds بنک کے سب سے حصہ دار (شیئر ہولڈر) ہیں اور تقریباً پورے یورپ میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس کے کم از کم ایک مالیاتی ادارے یا بنک میں BlackRock کی حصہ داری نہ ہو۔ اور یہاں تک کہ چھوٹے پرانے آئس لینڈ میں بھی، ہم نے جو تفتیش کی ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ آئس لینڈ کا ہر ایک بنک BlackRock کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا کاروبار کرتا ہے یا وہ اپنی کمپنی کا پیسہ BlackRock کے فنڈز میں لگاتا ہے۔

یہ تو بنکنگ ہے، لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ کا پیسہ BlackRock تک پہنچ جاتا ہے۔

اگر آپ نے کبھی کوئی ملازمت کی ہے تو آپ کا پنشن فنڈ یا ریٹائرمنٹ فنڈ جمع ہوتا ہے۔

مختلف ممالک میں اس کے مختلف نام ہو سکتے ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے۔ جب آپ کا پیسہ پنشن فنڈز میں جمع ہوتا ہے، تو آپ کا محکمہ اسے سرمایہ کاری میں ڈالتا ہے تاکہ ریٹائرمنٹ کا وقت آنے تک اس میں اضافہ ہو سکے۔

لیکن اس بات کا امکان ہے کہ آپ کواس پر اختیار نہ ہو کہ یہ رقم دراصل کہاں لگائی  جا رہی ہے لیکن بہرحال اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ سب بنیادی طور پر BlackRock کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا میں اس بات کا بہت، بہت، بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ کے پنشن فنڈ میں آپ کی رقم بلیک راک کے ساتھ یا کسی طرح سے BlackRock سے منسلک فنڈ میں لگائی جا رہی ہو۔

لہذا بلیک راک وہاں بھی آپ کے پیسے تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔

اور انشورنس کا کیا ہوگا؟

ٹھیک ہے، بہت سی بڑی انشورنس کمپنیاں، جیسے کہ AIG یا Allianz، یا تو جزوی طور پر بلیک راک کی ملکیت میں ہیں یا BlackRock کے فنڈز سے سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

اور امریکہ میں، کسی بھی دوسری کمپنی کے مقابلے میں زیادہ تر انشورنس کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری BlackRock کے ساتھ رکھتی ہیں۔

لہٰذا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ اپنا پیسہ کہاں لگا رہے ہیں، کیونکہ کسی نہ کسی شکل میں، کسی نہ کسی طریقے سے آپ کا سرمایہ BlackRock کے ہاتھوں میں پہنچ ہی جاتا ہے۔

امریکہ جیسی جگہوں پر ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بلیک راک اور پنشن فنڈز، زیادہ سے زیادہ رئیل اسٹیٹ خریدنے کی کوشش میں، سنگل فیملی کے گھروں کی قیمت سے 50 فی صد تک زیادہ ادائیگی کر رہے ہیں۔

اور اس کے نتیجے میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے اور آپ اور مجھ جیسے عام افراد کے ان گھروں کو خریدنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

ووکس جیسے میڈیا آؤٹ لیٹس آپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ ہاؤسنگ مارکیٹ کے مسائل اور گھروں کی قیمتیں عام افراد کی قوت خرید سے باہر ہو جانے کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ وال اسٹریٹ کے بنک جیسے کہ گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) اور بلیک راک (BlackRock) مارکیٹ میں پیسے کے زور پر اپنی اجارہ داری بنائے بیٹھے ہیں۔



لیکن اصل بات جو وہ آپ کو نہیں بتاتے وہ یہ ہے کہ ووکس دراصل وال اسٹریٹ بنک گولڈمین سیکس کے ہاتھوں بہت طویل عرصے سے بکا ہوا ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ BlackRock اصل میں Vox کی پیرنٹ کمپنی، جسے Comcast کہا جاتا ہے، میں حصہ دار (شئیر ہولڈر) ہونے کی بنا پر Vox  کی ملکیت میں حصہ دار ہے۔

تو، بتائیے آپ کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟

لیکن ابھی اس سے بھی زیادہ چکرا  دینے والی ایک اور بات ہے۔

حقیقت میں BlackRock کی پہنچ دیکھنے کے لیے، آپ ان کی صرف براہ راست ملکیت کو نہ دیکھیں، آپ یہ بھی دیکھیں کہ ان کی شراکتی ملکیت کیا ہے؟

BlackRock دنیا بھر میں کئی سرمایہ کاری فرموں اور سرمایہ کاری بنکوں میں حصص کی مالک ہے۔

آئیے مثال کے طور پر گولڈمین سیکس (Goldman Sachs) کو لے لیں، جس کا ذکر ابھی ہوا تھا۔

اس سرمایہ کاری بنک کو، کم از کم جزوی طور پر، 2008 کے مالیاتی بحران کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

Goldman Sachs کے سب سے بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک بلیک راک ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس ووٹنگ کے بہت اہم حقوق ہیں کہ گولڈمین سیکس اپنا پیسہ کہاں لگاتا ہے۔

اس کا مطلب ہے بذریعہ دُزدی / سرقہ / چوری (غیر قانونی طور پر کسی سے کوئی چیز لینا)، BlackRock پہلے  کاغذی طور پرجو کچھ ظاہر کیا جاتا ہےاس سے بھی کہیں زیادہ کی مالک ہے۔

اور وہ مثال یاد ہے جو میں نے گولڈمین سیکس کو سپانسر کرنے والی ووکس کی دی تھی؟

ٹھیک ہے، اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ  بلیک راک Goldman Sachs کے ایک حصے کی مالک ہے، انہیں Vox کا سپانسر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

اور بھی چکرانا چاہتے ہیں؟

ٹھیک ہے، میں سمجھا کہ شاید آپ کبھی بھی نہ پوچھیں۔

بلیک راک کی سرکلر ملکیت (Circular Ownership)

ایک چیز ہوتی ہے سرکلر ملکیت (Circular Ownership

بنیادی طور پر اس کا مطلب ہے، جب دو کمپنیاں ایک دوسرے میں حصہ داری رکھتی ہیں۔

آئیے دنیا کے سب سے بڑے انویسٹمنٹ بنکوں میں سے ایک کی مثال لیتے ہیں جو کہ جے پی مورگن ہے۔

جے پی مورگن حصہ داروں (شیئر ہولڈرز) اور دیگر بڑے سرمایہ کار اداروں کی ملکیت ہے۔

ارے واہ، آپ نے اندازہ لگا بھی لیا۔

بلیک راک، جے پی مورگن کے بھی ایک حصے کی مالک ہے، لیکن جے پی مورگن بلیک راک کے ایک حصے کا بھی مالک ہے۔

لہذا، وہ نہ صرف ایک دوسرے کے ایک حصے کے مالک ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ایسی کمپنی کے ایک حصے کے مالک ہیں جو ان کے ایک حصے کی مالک ہے، تکنیکی طور پر وہ خود بھی اپنے مالک ہیں۔

الجھن میں ہیں؟

ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے کہ یہی اصل نکتہ ہو۔ اکثر اوقات ، اس طرح کے کاروباری ڈھانچوں کو اسی طرح سے ڈیزائن کیا جاتا ہےتا کہ یہ مزید الجھاؤ پیدا ہو  جائے کہ کون کس چیز کا مالک ہے۔

سرکلر ملکیت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مفادات کے بہت بڑے تنازعات کا سبب بن سکتی ہے اور کمپنیوں کو کاروبار کے بعض شعبوں پر، بغیر براہ راست اجارہ داری کے، خفیہ اجارہ داری رکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

دراصل  اس قسم کا کاروباری ڈھانچہ، سرکلر ملکیت، دنیا کے کچھ حصوں میں غیر قانونی ہے، کیونکہ اس قسم کی کاروباری ملکیت کو استحصال کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کاروبار کے اندر تنوع اور مسابقت کا کیا ہوگا؟



ٹھیک ہے، مثال کے طور پر Coca-Cola کو لے لیں، جو کہ پوری دنیا میں سب سے بڑا مشروب بنانے والا ادارہ ہے۔

اور ہاں، آپ ٹھیک سمجھے کہ میں یہ کہنے والا ہوں کہ بلیک راک Coca-Cola کے ایک بڑے حصے کی مالک ہے، لیکن Coke کے سب سے بڑے حریف، PepsiCo کا کیا ہوگا؟

وہ برسوں سے مشروبات کی مسابقت میں ہیں، مسلسل اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ کون سا بہتر ہے۔

تو، مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں ہوگا، ایسا ہی ہے نا؟

اوہ انتظار کرو، نہیں۔

بلاشبہ بلیک راک PepsiCo کےبھی  سب سے بڑے مالکان میں سے ایک ہے۔

لیکن خبروں کا کیا ہوگا؟

خبروں کا تنوع یا پھرتنوع کی کمی؟

مجھے یقین ہے کہ آپ کو سمجھتے ہوں گے کہ میڈیا اور عالمی منظر نامے میں بہت بڑا تنوع ہے، لیکن جب آپ دیکھیں گے کہ خبروں کا مالک کون ہے، تو آپ اس کے بارے میں تھوڑا مختلف سوچنا شروع کر دیں گے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ سیاسی میدان میں کس کی طرف ہیں یا آپ کے خیال میں کون سا خبری ذریعہ زیادہ سچا ہے، کیونکہ امکان یہ ہے کہ بلیک راک دراصل ان خبروں میں سے کچھ نہ کچھ حصے کی مالک ہے۔



فاکس نیوز، دی نیویارک ٹائمز، سی این این، اے بی سی، این بی سی، نیویارک پوسٹ، اسکائی نیوز، دی سن وغیرہ  وغیرہ ۔

اور کسی نہ کسی طریقے سے BlackRock شمالی امریکہ سے لے کر ایشیا، آسٹریلیا اور اس سے آگے کرہ ارض پر بنیادی طور پر ہر میڈیا تنظیم یا بڑے نیوز آؤٹ لیٹ کے ایک حصے کی مالک ہے۔

سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ٹویٹر، فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام، جس کا مطلب ہے دُزدی / سرقہ / چوری (غیر قانونی طور پر کسی سے کوئی چیز لینا) ۔

جی ہاں، BlackRock بھی ان پلیٹ فارمز کے سب سے بڑے مالکان میں سے ایک ہے۔

درحقیقت، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے BlackRock اور دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اثاثہ جات کا منتظم ادارہ Vanguard ، اس میڈیا کے 90فی صد سے زیادہ حصے کے مالک ہیں جسے ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

تو اس کی بنیاد پر، کیا یہ ممکن ہے کہ بلیک راک کے پاس دنیا بھر میں کوئی بھی پیغام یا پیغامات، جس کی انھیں ضرورت ہو، حاصل کرنے کے لیے اہم طاقت ہو؟

چلیں میں فیصلہ آپ پہ چھوڑتا ہوں۔

90 کھرب ڈالر سے زیادہ کے اثاثے

مجھے لگتا ہے کہ اب تک آپ کو معمہ سمجھ آنا شروع ہو گیا ہو گا۔

اور جب میں نے مضمون کے آغاز میں کہا تھا کہ ایک کمپنی ہے جو دنیا کے ایک بڑے حصے کی مالک ہے، میں ہر گز مذاق نہیں کر رہا تھا۔



چاہے یہ براہ راست ملکیت کے ذریعے ہو یا کمپنیوں کے ذریعے بالواسطہ ملکیت جس کی وہ خود مالک ہیں، ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی پائی پائی میں BlackRock کا حصہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کوئی صنعت ان کے انتظام اور ان کے کنٹرول سے مبرا نہیں۔

اور اتنی زیادہ ملکیت کی وجہ سے  BlackRockکے پاس  غیر معمولی طاقت ہے۔

اس مضمون کی تیاری کے وقت، یہ کہا جا رہا ہے کہ BlackRock  90 کھرب امریکی ڈالر کے اثاثوں کی مالک ہے۔

یعنی نہ تو 90 لاکھ، نہ ہی 90 کروڑ اور نہ 90 ارب بلکہ 90 کھرب ڈالر۔

یہ ایک نہایت خطیر رقم ہے اور بعض اوقات اس کے متعلق اپنے دماغ کو قابو میں رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔

لیکن اس نکتے کو تھوڑا سا مزید واضح کرتا چلوں، 90 کھرب کرہ ارض کے ہر ایک ملک کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے سوائے امریکہ اور چین کے۔

اس بارے میں سوچیں۔

سوچیں کہ جرمنی یا جاپان یا روس یا کینیڈا یا جنوبی کوریا یا آسٹریلیا یا انگلستان جیسے پیداواری ملکوں کی سالانہ GDP کتنی ہے۔

یہ ممالک اور ان کے باشندے انفراسٹرکچر، تجارت، تعلیم، اپنی فوج، اور ایک سال میں ان کی تیار کردہ اشیا اور خدمات کی مد میں کتنا خرچ کرتے ہیں۔

بلیک راک ان ملکوں میں سے ہر ایک کی جی ڈی پی سے زیادہ اثاثے رکھتی ہے اور یہ کافی گھمبیر مسئلہ ہے۔

ماحولیاتی مسائل

اور بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے، تو بلیک راک کتنی ذمہ دار ہے؟



اعداد و شمار کے مطابق  BlackRock کرہ ارض پر پٹرولیم مصنوعات میں سب سے بڑی سرمایہ کار کمپنی  ہے، نیز ایمیزون میں جنگلات کی کٹائی سمیت دنیا بھر کے جنگلات اور ماحولیاتی نظام کی تباہی میں پیسہ لگانے میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔

اور بھی بہت کچھ ہے جو میں BlackRock کے بارے میں بتا سکتا ہوں، میں اس بارے میں بات کر سکتا ہوں کہ کس طرح ان پر دنیا بھر میں مقامی باشندوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہاں تک کہ میں آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کا بنک یا آپ کا پنشن فنڈ BlackRock کو براہ راست فنڈ نہیں کرتا ہے، تب بھی الہ دین نامی اپنے مالیاتی انتظامی نظام کی وجہ سے وہ غالباً آپ کی نجی معلومات تک رسائی رکھتے ہیں۔

اور آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ BlackRock کے اہم حریف جیسے کہ وین گارڈ اور دیگر بھی دنیا کی حالت کے بارے میں اتنے ہی پریشان ہیں۔

اب، اگر ان باتوں سے آپ خوف محسوس کرتے ہیں تو ایسا ہونا ہی چاہیے۔

اتنی طاقت رکھنے والی کمپنیاں اکیلے ہی ہماری دنیا کے معاشی مستقبل کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

لیکن یہاں سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ آپ کی غلطی ہے کہ ان کمپنیوں میں اتنی طاقت ہے۔

یہ سب ہماری غلطی ہے۔

یہ ہمارا پیسہ ہے جو ہمارے بنکوں سے نکلتا ہے، ہمارے پنشن فنڈز، ہماری سرمایہ کاری، جو براہ راست ان کمپنیوں کو جا رہی ہے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمیزون کو تباہ نہیں کرنا چاہتے یا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری دنیا تباہی کا شکار ہو، لیکن ساری بات وہیں پہ پہنچتی ہے کہ پیسہ جا کہاں رہا ہے۔



وہ یہ سب نہیں کر سکتے تھے، وہ ہمارے بغیر اس میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ ہمارے بغیر، ان کے پاس اتنی مالی طاقت نہیں ہو گی کہ وہ پوری دنیا کی تقریباً ہر ایک صنعت میں شامل ہو سکیں اور جس طرح وہ کرنا چاہیں اس طرح کا حکم دے سکیں۔

لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہم کر سکتے ہیں اور میں اسے مضمون کے دوسرے حصے میں پیش کرتا ہوں، جسے "حل" کہہ سکتے ہیں۔

دوسرا حصہ 2: حل

ایک حل موجود ہے اور مقامِ شکر ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنا خود اس مسئلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

اور اس کا حل صرف پیسے کی نگرانی کرنا ہے۔

جب آپ اپنا پیسہ کسی بنک میں جمع کرتے ہیں یا آپ اسے پنشن فنڈ میں ڈالتے ہیں، وہ پنشن فنڈ یا بنک، اس رقم کو سرمایہ کاری کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ ہے وہ طریقہ جس سے یہ بنک اور ادارے اس طرح سے خطیر رقمیں کماتے ہیں ۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو قطعی طور پر اندازہ نہیں ہے کہ ان کا پیسہ دراصل ان کے بنکنگ یا پنشن فنڈز میں کس طرح استعمال ہو رہا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ یہ ادارے ان کے پیسے سے کیسے مدد کر رہے ہیں۔

لہٰذا، اس رقم کا تعاقب کریں کہ آپ کا بنک، مالیاتی ادارہ یا انشورنس کمپنی پیسے کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔

اور اگر آپ کو یہ پسند نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو بس اس رقم کو نکالیں اور اسے کسی متبادل، چھوٹی کریڈٹ یونین یا مقامی بنک میں لگائیں۔

اس کے علاوہ یہ کہ صرف اس بات پر توجہ دینا کافی نہیں کہ آپ کے ادارے اس رقم کو کہاں لگا رہے ہیں بلکہ اصل میں ان اداروں کا مالک کون ہے جیسے کہ انشورنس کمپنیاں یا بنک یا پنشن فنڈز۔

اگر، منی ٹریل نا پسندیدہ سمت جا رہی ہے، تو اپنے معاملات چلانے کے لیے کوئی دوسرا بنک تلاش کریں۔

یہ تمام معلومات عوامی ہونی چاہئیں اور اگر یہ نہیں ہے تو اپنے بنک سے رابطہ کریں اور یہ معلومات حاصل کریں۔

جب آپ کسی میڈیا آؤٹ لیٹ کو دنیا کے مالی حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے سنیں، تو اس بات کا کھوج لگائیں کریں کہ اصل میں کون اس نیوز آرٹیکل، اس معلومات کو سپانسر کر رہا ہے کیونکہ شاید اس کے پیچھے کوئی ہو، جو دنیا کے مالی حالات کے بارے میں اپنی مرضی کے مطابق آپ کی ذہن سازی کرنا چاہتا ہو۔

آپ جب بھی کسی قسم کی سرمایہ کاری کر رہے ہوں تو اس رقم کی نگرانی کریں، اسٹاک، جائیداد، جو بھی ہو اور یہ معلوم کریں کہ وہ پیسہ درحقیقت کس کی مدد کر رہا ہے، پتہ لگائیں کہ اس رقم سے کس قسم کا نقصان ہو سکتا ہے۔



بدقسمتی سے، ایسی صورتِ حال بھی پیش آ سکتی ہے جہاں آپ کے لیے BlackRock  یا اس جیسی کمپنیوں کو جانے والی رقم کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔

مثال کے طور پر، سنگاپور کی حکومت، اپنے سرمایہ کاری بازو Temasek Holdings کے ذریعے بلیک راک کے سب سے بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ سنگاپوری ہیں، تو آپ کے لیے BlackRock کے لنکس سے خود کو الگ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسی طرح آئس لینڈ میں بھی زیادہ آپشن نہیں ہیں، کیونکہ اس ملک کے کُل تین کے تین بنکوں کا بلیک راک سے کسی نہ کسی طرح کا تعلق ہے۔

اگرچہ بڑی خبر یہ ہے کہ آپ کو ان دنوں روایتی بنکنگ سسٹم پر قائم رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بہت سارے آن لائن بنک ہیں، صرف ڈیجیٹل بنک جو آپ کے اپنے ملک میں دستیاب ہوسکتے ہیں۔

ایک بار پھر، آپ کو تحقیق کرنا ہوگی، کیوں کہ کچھ آن لائن، صرف ڈیجیٹل بنک بھی ایسے ہوسکتے ہیں جن کا ان بڑی کمپنیوں سے کسی قسم کا تعلق ہو۔

آسٹریلیا جیسی کچھ جگہوں پر، آپ کے لیے بنکنگ کرنے کے لیے کچھ متبادل ہو سکتے ہیں جیسے کہ چھوٹی کریڈٹ یونینز یا بنک آف آسٹریلیا جو ماحولیات کی تباہی میں کسی بھی طرح ملوث نہ ہوں۔

پیسے کی نگرانی کریں اور اپنے پیسے کے بارے میں فیصلہ خود کریں۔

اور میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صرف اپنے روزمرہ کے کاموں پر خر چ ہونے والے پیسے پر دھیان دیں  بلکہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنا پیسہ کہاں پر لگا رہے ہیں، آپ کس قسم کی تنظیموں یا فنڈز میں اپنا پیسہ لگا رہے ہیں، کہیں وہ ان کی عناصر کی مدد تو نہیں کر رہے جو بیہمانہ طور پر ہماری دنیا کو کنٹرول کرنے اور کرہ ارض کو تباہ کرنے میں ملوث ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کرہ ارض پر منفی اثرات نہ ڈالتا ہو اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی سب سے اوپر رہے گا۔ آپ سچ مچ ایک اہم تبدیلی لا سکتے ہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا آپ پیسے کی نگرانی کرتے ہیں یا پھر آپ اس بات سے لاعلم رہنے کا انتخاب کرتے ہیں کہ آپ کا پیسہ کہاں لگ رہا ہے۔

یاد رکھیں کہ ہم عوام ہیں اور اگر ہم سب تھوڑی سی کوشش کریں، صرف یہ چیک کرنے کی چھوٹی سی کوشش کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے تو یقیناً ہم اس دنیا کے حالات میں بہت بڑی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔

یہاں تک اس مضمون  پڑھنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔

میں جانتا ہوں کہ ایسی باتیں پڑھنا کبھی کبھی بہت بھاری محسوس ہوتا ہے اور اس کا سامنا کرنا کوئی خوشگوار چیز نہیں ہے۔

اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ چاہے کچھ بھی کر لیں، ایسا لگتا ہے کہ آپ معاشرے کو بہتر نہیں کر سکتے، لیکن ہم کر سکتے ہیں، ہم بالکل کر سکتے ہیں۔

تو اس پر قائم رہیں، اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے رہیں اور اپنے پیسے کے ساتھ بہت احتیاط سے انتخاب کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

نیپال کی اختراع: ہسپتال کے فضلہ سے گھریلو گیس کی تیاری

انسان کی سونگھنے کی حس کتنی تیز ہے