سائنس دانوں نے نشاستے (کاربوہائیڈریٹ) سے انسانوں کے لگاؤ کی ابتداء کا سراغ لگا لیا۔

 سائنس دانوں نے نشاستے (کاربوہائیڈریٹ) سے انسانوں کے لگاؤ کی ابتداء کا سراغ لگا لیا۔

ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ کسی خاص جین کی نقل نے نشاستہ دار کھانوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔




ایک نئی تحقیق کے مطابق، جدید انسانوں کے کاربوہائیڈریٹ کے ساتھ گہرے لگاؤ کی ابتدا ایک نوع کے طور پر ہمارے وجود سے پہلے کی ہو سکتی ہے۔

ایک زمانے میں قدیم انسانوں کے میمتھ سٹیک اور گوشت کے دیگر شکاروں پر کھانا کھانے کے ایک مروجہ دقیانوسی تصور نے پروٹین سے بھرپور خوراک کے خیال کو فروغ دینے میں مدد کی جو کہ ایک بڑے دماغ کی نشوونما کے لیے ضروری تھی۔


لیکن حالیہ برسوں میں آثار قدیمہ کے شواہد نے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے، دانتوں میں موجود بیکٹیریا کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے  کہ انسانوں میں بہت پہلے نشاستہ دار گنٹھی والی  بھنی ہوئی چیزوں  جیسے کہ آلو، شکر قندی وغیرہ اور دیگر نشاستہ سے بھرپور غذاؤں کا ذوق پیدا ہو گیا تھا۔

'سائنس' جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ابتدائی نشاستہ دار غذا کے بارے میں پہلا موروثی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کے ارتقاء کا سراغ لگایا جو نشاستے کو سادہ شکر میں توڑ کر انسانوں کے لئے زود ہضم بناتا ہے جسے ہمارے جسم توانائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ جینز زراعت کے آغاز سے بہت پہلے بنے تھے۔

یہ پھیلاؤ  لاکھوں سال پیچھے بھی جا سکتا ہے، ہماری انواع، ہومو سیپینز، یا یہاں تک کہ نینڈرتھل کے الگ الگ انسانی نسب کے طور پر ابھرنے سے بھی پہلے۔

فارمنگٹن، کنیکٹی کٹ میں جیکسن لیبارٹری اور نیو یارک ریاست میں یونیورسٹی آف بفیلو میں مقیم محققین نے 68 قدیم انسانوں کے جینوم کا تجزیہ کیا۔ مطالعاتی ٹیم نے AMY1 نامی ایک جین پر توجہ مرکوز کی، جو انسانوں کے منہ میں انزائم امیلیز  پیدا کرتا ہے جو پیچیدہ نشاستے کی شناخت کرکے اسے توڑتا ہے۔ امیلیز کے بغیر انسان آلو، پاستا، چاول یا روٹی جیسی غذاؤں کو ہضم کرنے کے قابل نہ ہوتا۔

آج انسانوں کے پاس اس جین کی متعدد نقول ہیں، اور یہ تعداد ایک سے دوسرے شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ تاہم، جینیاتی ماہرین کے لیے یہ جاننا مشکل رہا ہے کہ ان جینوں کی تعداد کب اور کیسے پھیلی جو اس بات کی عکاس ہے کہ نشاستہ کھانا  کب سے  انسانی صحت کے لیے مفید ثابت ہوا۔

اس تحقیق کی پہلی مصنفہ اور جیکسن لیبارٹری کی ایسوسی ایٹ کمپیوٹیشنل سائنسدان فیزا یلماز نے کہا " یہ نقل کب ہوئی؟ یہ وہ اہم سوال ہے  جس کا جواب دینے کی ہم  کوشش کر رہے تھے، اسی لیے ہم نے قدیم جینومز کا مطالعہ شروع کیا۔"

"پچھلی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ AMY1 کاپی نمبرز اور ہمارے لعاب میں جاری ہونے والے امیلیز انزائم کی مقدار کے درمیان باہمی تعلق ہے۔" اس نے کہا " موضوع ِبحث  یہ ہے کہ کیا اس کا تعلق زراعت کے آغاز سے ہے؟‘‘

ایک جینیاتی صورتِ حال

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 45,000 سال پہلے تک خانہ بدوش شکاریوں میں، جن کا طرز زندگی زراعت سے پہلے کا تھا، اوسطاً AMY1 کی چار سے آٹھ کاپیاں تھیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہومو سیپینز کو نشاستے کا شوق فصلوں کو انسانی غذا بنانے سے بہت پہلے تھا۔

تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ AMY1  جین کی نقل نینڈرتھلز اور ڈینیسووانس کے جینوم میں موجود تھی، ایک معدوم ہومینین پہلی بار 2010 میں دریافت ہوا تھا جس کے بارے میں نسبتاً کم معلومات ہیں۔ مطالعہ کے مطابق، تین انسانی انواع میں جین کی متعدد کاپیوں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف نسبوں کے تقسیم ہونے سے پہلے، یہ ایک مشترکہ آباؤ اجداد کی خصوصیت تھی۔

اس سراغ کا مطلب ہے کہ قدیم انسانوں کے پاس 800,000 سال پہلے تک AMY1 کی ایک سے زیادہ کاپیاں تھیں۔

یہ حتمی طور پر معلوم نہیں کہ AMY1 کی ابتدائی نقل کب ہوئی، لیکن ممکنہ طور پر یہ بے ترتیبی سے ہوا ہے۔ ایک سے زیادہ کاپیوں کی موجودگی نے ایک جینیاتی صورتِ حال پیدا کر کے انسانوں کو نئی خوراک، خاص طور پر نشاستہ سے بھرپور غذاؤں کو اپنانے کا موقع فراہم کیا، کیونکہ وہ متنوع ماحول کا سامنا کرتے تھے۔


تجزیہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پچھلے 4,000 سالوں میں ایک شخص کی AMY1 کاپیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے- خانہ بدوشی اور شکاری طرز زندگی چھوڑ کر زراعت اور اناج  کی کاشتکاری کی طرف منتقلی کے نتیجے میں شاید قدرت نے بھی نشاستے دار غذاؤں کو اپنانے میں انسانوں کو مدد فراہم کی ہو گی۔

یونیورسٹی آف آرکنساس کے شعبہ بشریات کے اسسٹنٹ پروفیسر ٹیلر ہرمیس، جو تحقیق میں شامل نہیں، کہتے ہیں کہ اس تحقیق نے "ٹھوس ثبوت فراہم کیے" کہ کس طرح مشکل سے ہضم ہونے والے نشاستے کو آسانی سے اثر پذیر شکر میں تبدیل والی مالیکیولر مشینری انسانوں میں تیار ہوئی۔

وہ کہتے ہیں "اس کے علاوہ، نئی تحقیق ابھرتے ہوئے اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ پروٹین کے بجائے کاربوہائیڈریٹ نے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی دماغ کے سائز میں اضافے کے لیے اضافی  توانائی فراہم کی۔"

"مصنفین کی دریافت کہ شاید امیلیز جین کی نقل کی تعداد میں اضافہ، جو نشاستے کو توڑنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے، نینڈرتھلز یا ڈینیسووان سے لاکھوں سال پہلے ہوا،   اس خیال کو زیادہ تقویت دیتی ہے کہ انسانی ارتقاء کے دوران تیزی سے بڑھتی ہوئی دماغی نشوونما کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے نشاستے کو سادہ شکر میں میٹابولائز کیا جا رہا تھا۔" ہرمیس نے کہا۔


"جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ قدیم انسانی جینوم کے ساتھ مزید اعلیٰ معیار کی جانچ کی ضرورت ہے، میں حیران تھا کہ مصنفین نینڈرتھلز اور ڈینیسووان جینوموں میں امیلیز جینز کی متعدد کاپیوں کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئے جو پہلے شائع ہو چکے ہیں،" ہرمیس نے مزید کہا۔ "اس سے اہم طبی اور جسمانی ریکارڈوں کی فراہمی کے لئے قدیم انسانی جینومز پر تحقیقات جاری رکھنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔"

ہارورڈ یونیورسٹی میں سماجی علوم اور بشریات کی جان ایل لوئب ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹینا وارنر نے کہا کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آبادی میں وقت کے ساتھ ساتھ انفرادی جین کس طرح مختلف ہوتے گئے، اور یہ تحقیق "نہایت  شاندار" ہے۔


"ہم جانتے ہیں کہ غذائی تبدیلیوں نے انسانی ارتقاء میں مرکزی کردار ادا کیا ہے … لیکن ان واقعات کی تشکیل نو کرنا جو ہزاروں بلکہ لاکھوں سال پہلے پیش آئے، مشکل ہے،" وارنر نے کہا، جو تحقیق میں شامل نہیں تھیں۔

"اس مطالعے کی جینیاتی کھوج آخر کار ان اہم سنگ میلوں میں سے کچھ کے وقت کا تعین کرنے میں مدد کر رہی ہے، اور یہ نشاستے کے ساتھ انسانیت کے طویل پیار کے تعلق کے بارے میں للچانے والے سراغوں کو ظاہر کر رہا ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

دنیا کی مالک کمپنی

نیپال کی اختراع: ہسپتال کے فضلہ سے گھریلو گیس کی تیاری

انسان کی سونگھنے کی حس کتنی تیز ہے